Skip to main content

Us Ko Juda Huwy Bi Zamana Huwa


اس کو جدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوا 
اب کیا کہیں یہ قصہ پرانا بہت ہوا
ڈھلتی نہ تھی کسی بھی جتن سے شب فراق
اے مرگ ناگہاں ترا آنا بہت ہوا
ہم خلد سے نکل تو گئے ہیں پر اے خدا
اتنے سے واقعے کا فسانہ بہت ہوا
اب ہم ہیں اور سارے زمانے کی دشمنی
اس سے ذرا سا ربط بڑھانا بہت ہوا
اب کیوں نہ زندگی پہ محبت کو وار دیں
اس عاشقی میں جان سے جانا بہت ہوا
اب تک تو دل کا دل سے تعارف نہ ہو سکا
مانا کہ اس سے ملنا ملانا بہت ہوا
کیا کیا نہ ہم خراب ہوئے ہیں مگر یہ دل
اے یاد یار تیرا ٹھکانہ بہت ہوا
کہتا تھا ناصحوں سے مرے منہ نہ آئیو
پھر کیا تھا ایک ہو کا بہانہ بہت ہوا
لو پھر ترے لبوں پہ اسی بے وفا کا ذکر
احمد فرازؔ تجھ سے کہا نہ بہت ہوا

احمد فراز

Comments

Popular posts from this blog

Shah Ast Hussain R.A Badshah Ast Hussain R.A

شاہ است حُسین، بادشاہ است حُسین دیں است حُسین، دیں پناہ است حُسین سر داد نداد دست در دستِ یزید حقّا کہ بنائے لا الہ است حسین

Dost Huta Nhi Har Hath Milany Wala

دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا اب اسے لوگ سمجھتے ہیں گرفتار مرا سخت نادم ہے مجھے دام میں لانے والا صبحدم چھوڑ گیا نکہتِ گل کی صورت رات کو غنچہء دل میں سمٹ آنے والا کیا کہیں کتنے مراسم تھے ہمارے اس سے وہ جو اک شخص ہے منہ پھیر کے جانے والا تیرے ہوتے ہوئے آ جاتی تھی ساری دنیا آج تنہا ہوں تو کوئی نہیں آنے والا منتظر کس کا ہوں ٹوٹی ہوئی دہلیز پہ میں کون آئے گا یہاں کون ہے آنے والا کیا خبر تھی جو مری جاں میں گھلا ہے اتنا ہے وہی مجھ کو سرِ دار بھی لانے والا میں نے دیکھا ہے بہاروں میں چمن کو جلتے ہے کوئی خواب کی تعبیر بتانے والا تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا احمد فراز

Islam Ki Shokat, Sadaf-e-Deen ka Gohar Hy

اسلام کی شوکت،صدفِ دیں کا گُہَرہے شہکارِ رسالت جسے کہئیے،وہ عمرؓ ہے جس نام کے صدقے سے دُعاؤں میں اثر ہے وہ نامِ عمرؓ،نامِ عمرؓ،نامِ عمرؓ ہے مہتاب کے حلقے میں ستارے ہیں صف آرا یوں حُسن شبِ ماہ کا،ہمرنگِ سحر ہے وہ صحنِ حرم اور وہ اِک اینٹ کا تکیہ کیا تربیتِ سرورِؐ عالَم کا اثر ہے فقر ایسا کہ دیں قیصر و کسرٰی بھی سلامی حُکم ایسا کہ دریا بھی جھکائے ہوئے سَرہے عدل ایسا،پکڑ سکتے ہیں کمزور بھی دامن رُعب ایسا کہ خود ظلم کا دل زیر و زبر ہے کترا کے گزر جاتا ہے اُس دن سے ہر اِک غم جس دن سے مِرے وردِ زباں،نامِ عمرؓ ہے کعبے میں نماز آج ادا ہو کے رہے گی خطاّب کے بیٹے کی یہ آمد کا اثر ہے دل سے جو پُکارو گے عُمرؓ کو،تو دمِ رزم یہ نام ہی شمشیر،یہی نام سِپَر ہے "ہوتا جو کوئی نبی مِرے بعد،تو فاروقؓ" اُس کا ہے یہ فرمان کہ جو خیرِ بشر ہے قرآن کی آیات یہ دیتی ہیں گواہی تقوٰی جسے کہتے ہیں، وہ کردارِ عمرؓ ہے جو صاف دماغوں ہی کو رکھتا ہے معطَّر اسلام کے گُلشن کا عمرؓ،وہ گُلِ تر ہے ہے جن کی غلامی بھی اک اعزاز،وہ لاریب بُوبکرؓ ہ...